24 اکتوبر 2012 - 20:30

اطلاعات کے مطابق 2008 میں امام بارگاہ مرزا قاسم میں کالعدم ملک دشمن سعودی ریال خور جماعت لشکر جھنگوی کے بم دھماکہ میں زخمی ہونے والے 14 سالہ علی عباس آج زخموں کی تاب نالاتے ہوئے شہید ہوگئے۔

ابنا:یاد رہے کہ 2008ء میں امام بارگاہ مرزا قاسم پشاور میں مجلس عزاء کے دوران خوکش حملہ میں علی عباس سر پر شدید زخم آئے تھے جس کے باعث ہاتھوں اور پیروں سے معذور ہو گئے تھے۔ اور گزشتہ 4 سال سے معذوری کی زندگی گزار رہے تھے، تاہم گزشتہ 2 ہفتہ سے 14 سالہ علی عباس کی طبعیت شدید خراب ہو چکی تھے،شہد گزشتہ دو ہفتے سے لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور کے آئی سی یو میں نیم بے ہوشی کی حالت میں زندگی اور موت کی کشمکش میں تھے۔مذہب سے انتہائی قربت رکھنے والے علی عباس نے معذوری کے باوجود حوصلہ اور ہمت نہیں ہاری تھے اور مکتب اہل بیت (ع) سے اپنی وابستگی کا حق ادا کرتے ہوئے اپنی مثال آپ بن گیا تھا، یہ ننھا عزادارآج 4 سال بعد اپنے مولا سے ملاقات کو روانہ ہوگیا ہے تمام مومنین سے سورہ فاتحہ کی التماس ہے۔یہ پھو ل اپنی لطافت کی داد پا نہ سکاکھلا ضرور مگر کھل کر مسکرا نہ سکا...../169